Home » بریسٹ کینسر اسکریننگ میں اے آئی کے استعمال سے خطرناک کیسز میں نمایاں کمی، تحقیق

بریسٹ کینسر اسکریننگ میں اے آئی کے استعمال سے خطرناک کیسز میں نمایاں کمی، تحقیق

by Kassowal
0 comments
تحقیق میں بریسٹ کینسر اسکریننگ کے دوران اے آئی کے استعمال کو مؤثر قرار دیا گیا ہے، جس سے خطرناک کیسز میں کمی ممکن ہے۔ تفصیلات Kassowal News پر۔

طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بریسٹ کینسر کی اسکریننگ کے عمل میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے استعمال سے بیماری کے خطرناک اور آخری مراحل میں سامنے آنے والے کیسز کی تعداد میں کمی آ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اے آئی کی مدد سے کینسر کی بروقت نشاندہی ممکن ہو جاتی ہے، جس سے علاج کے بہتر امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق برطانیہ میں باقاعدہ بریسٹ کینسر اسکریننگ کے ذریعے ہر سال تقریباً 1300 جانیں بچائی جا رہی ہیں، جو اس عمل کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اسکریننگ کے جدید طریقوں نے بیماری سے اموات کی شرح میں نمایاں کمی لانے میں کردار ادا کیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 1990 کی دہائی میں بریسٹ کینسر کے باعث ہر سات میں سے ایک مریض جان کی بازی ہار جاتا تھا، جبکہ اب یہ شرح کم ہو کر ہر 20 میں سے ایک تک آ گئی ہے۔ طبی ماہرین اس بہتری کو اسکریننگ اور علاج میں پیش رفت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس وقت ہر میموگرام اسکریننگ کے لیے دو ماہرین کی ضرورت پڑتی ہے، اس کے باوجود بعض کیسز میں کینسر کی تشخیص رہ جاتی ہے۔ تاہم اے آئی کے استعمال سے ایک ہی ماہر کے ذریعے زیادہ مؤثر اور محفوظ اسکریننگ ممکن ہو سکتی ہے، جس سے تشخیص کی درستگی میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔

banner

You may also like

Leave a Comment

Edtior's Picks

Latest Articles

Are you sure want to unlock this post?
Unlock left : 0
Are you sure want to cancel subscription?
-
00:00
00:00
Update Required Flash plugin
-
00:00
00:00